Primary Color

Secondary Color

Tertiary Color

Top Header

Horizontal Menu Color

Vertical Menu Color

Primary Button

Secondary Button

Tertiary Button

Icon

Body Font

Heading Font

Horizontal Menu Font

Vertical Menu Font

Custom Background (Support Box Layout Only)


Background Image

  • patten 0
  • patten 1
  • patten 2
  • patten 3
  • patten 4
  • patten 5
  • patten 6
  • patten 7
  • patten 8
  • patten 9
  • patten 10

Backgrounds Color

Home » بچوں کا مساج کیوں ضروری ہے؟

بچوں کا مساج کیوں ضروری ہے؟

بچوں کا مساج کیوں کرنا چاہئیے؟

مجھ سے بات کریں!‏

شیرخوار بچے بہت حساس ہوتے ہیں۔‏ مگر ان کا یہ َدور کچھ عرصے بعد ختم ہو جاتا ہے۔‏ مثال کے طور پر،‏ نوخیز دماغ آسانی کیساتھ ایک سے زیادہ زبانوں میں مہارت حاصل کر سکتا ہے۔‏ لیکن پانچ سال کی عمر میں زبان سیکھنے کا یہ موافق دَور ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔‏

جب بچہ 12 تا 14 سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو زبان سیکھنا ایک ناگزیر چیلنج بن سکتا ہے۔‏

نیورولوجسٹس کے مطابق،‏ یہ اُس وقت ہوتا ہے جب ”‏دماغ کے اندر زبان کے حلقوں میں برقی رو کی مقدار اور عصبی رابطوں کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔‏“

واضح طور پر،‏ زبان سیکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے سلسلے میں زندگی کے ابتدائی چند سال بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں!‏

بچے بولنے کی صلاحیت کیسے حاصل کرتے ہیں جو اُنکی پوری زندگی میں اِدراکی ترقی کیلئے بہت اہم ہوتی ہے؟‏

بنیادی طور پر وہ یہ صلاحیت والدین کیساتھ باہمی بات‌چیت کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔‏ بچے انسانی محرک کیلئے خاص طور پر جوابی‌عمل دکھاتے ہیں۔‏

میساچوسیٹس انسٹی‌ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک ماہر کے مطابق ”‏بچہ .‏ .‏ .‏ اپنی ماں کی آواز کی نقل کرتا ہے۔‏“‏

دلچسپی کی بات ہے کہ بچے تمام آوازوں کی نقل نہیں کرتے۔‏ ایرنز کے مطابق،‏ ”‏بچہ ماں کی آواز کیساتھ ساتھ جھولے کی آواز کو اپنی یادداشت کا حصہ نہیں بناتا۔‏“

پہلی محبت کا احساس

نوزائیدہ بچے کو پیدائش کے وقت سے لے کر ایک محبت بھری دیکھ‌ بھال،‏ نرم‌ و گداز طریقے سے چُھونے اور اپنے ساتھ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔‏

بعض ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ پیدائش کے بعد پہلے ۱۲ گھنٹے نہایت اہم ہوتے ہیں۔‏ اُنکے مطابق ماں اور بچے کو پیدائش کے فوراً بعد ”‏سونے یا کھانے کی بجائے نرمی سے بچے کو تھپتھپانے،‏ ایک دوسرے کے قریب رہنے،‏ ایک دوسرے کو دیکھنے اور ایک دوسرے کی سننے“‏ کی ضرورت ہوتی ہے۔‏*

جبلّی طور پر،‏ والدین اپنے بچوں کو تھپتھپاتے،‏ لاڈپیار کرتے اور گلے لگاتے ہیں۔‏ بچہ جواباً والدین کے گلے سے لپٹتا اور اُنکی توجہ کیلئے جوابی‌عمل دکھاتا ہے۔‏ یہ بندھن اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ والدین بغیر تھکے متواتر شیرخوار کی دیکھ‌ بھال کیلئے قربانیاں دیتے رہتے ہیں۔‏

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ایک شیرخوار کو یہ محبت نہ ملے تو وہ درحقیقت کمزور ہوکر مر بھی سکتا ہے۔‏

لہٰذا،‏ بعض ڈاکٹروں کے مطابق یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کو پیدائش کے فوراً بعد اُسکی ماں کی گود میں دیا جائے۔‏ اُن کا خیال ہے کہ شروع میں ہی ماں ر شیرخوار کے درمیان کم‌ ا زکم 30 تا 40 منٹ کا جسمانی ساتھ ہونا چاہئے۔‏

والدین اور شیرخوار کے درمیان ابتدائی رابطہ پر زور دینے کے باوجود،‏ بعض ہسپتالوں میں ابتدائی رابطہ مشکل ہو سکتا ہے مگر یہ ناممکن نہیں ہے۔‏

اکثراوقات،‏ نوزائیدہ بچے کو امراض لگنے کے خطرے کے پیشِ‌ نظر ماں سے الگ کر دیا جاتا ہے۔‏

تاہم،‏ بعض مثالوں سے پتا چلتا ہے کہ جب نوزائیدہ بچوں کو ماں کے ساتھ رہنے دیا جاتا ہے تو امراض کی شرح میں خاطرخواہ کمی واقع ہوتی ہے۔‏

پس زیادہ سے زیادہ ہسپتال ماں اور نوزائیدہ بچے کے درمیان جلدازجلد رابطہ کرانے پر متفق ہیں۔‏

باہمی تعلق کے حوالے سے فکرمندی

بعض مائیں جب اپنے بچے کو پہلی مرتبہ دیکھتی ہیں تو وہ اُسکے ساتھ جذباتی وابستگی پیدا کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔‏

پس وہ سوچتی ہیں،‏ ’‏کیا مجھے اپنے بچے کو چھونے میں مشکل کا سامنا ہوگا؟‏‘‏

سچ ہے کہ تمام ماؤں کو پہلی نظر میں ہی اپنے بچے سے پیار نہیں ہوتا۔‏ تاہم،‏ اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‏

جب بچے کیلئے ماں کے پیار میں تاخیر ہوتی ہے تو اسے بعدازاں پوری طرح فروغ دیا جا سکتا ہے۔‏

”‏ایک تجربہ‌ کار ماں کے مطابق،‏ ” مائیں زچگی کے دوران بہت تکلیف سے گزرتی ہیں لیکن ‏کسی بھی طرح کے حالات بچے کیساتھ آپکے رشتے کو ختم نہیں کر سکتے۔‏“‏

تاہم،‏ اگر آپ اُمید سے ہیں اور آپ فکرمند ہیں تو زچگی کے ماہرین سے قبل‌ازوقت بات کرنا دانشمندی ہوگا۔‏ اپنی خواہش کا واضح اظہار کریں کہ آپ کب اور کیسے اپنے نوزائیدہ بچے کیساتھ رابطہ کرنا چاہتی ہیں

مختلف تہذیب اور پس‌منظر سے تعلق رکھنے والے والدین اپنے بچوں سے ایک جیسے باترتیب اندازِگفتگو استعمال کرتے ہیں جسے بعض ”‏ماں‌باپ اور بچے کے مابین گفتگو“‏ کا نام دیتے ہیں۔‏

جب والدین محبت‌آمیز طریقے سے بات کرتے ہیں تو بچے کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔‏

ایک رائے کے مطابق اِس طریقے سے بچے کیساتھ بات‌ چیت لفظوں اور چیزوں کے درمیان تعلق کو سمجھانے کے عمل کو تیز کرتی ہے۔‏ بچہ کچھ کہے بغیر بھی والدین سے کہہ رہا ہوتا ہے:‏ ”‏میرے ساتھ باتیں کریں!‏“‏

بچے‏ خود محبت کرنے اور دوسروں سے محبت پانے کے قابل ہیں۔‏“‏ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ایک بچہ روتا ہے تو وہ اکثر اپنے والدین سے اِس بات کی درخواست کر رہا ہوتا ہے:‏ ”‏میری طرف دیکھیں!‏“‏ والدین کی طرف سے مہربانہ جوابی‌عمل بہت ضروری ہے۔‏

ایسے باہمی عمل سے بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی ضروریات سے آگاہ کر سکتا ہے۔‏ اسطرح وہ دوسروں کیساتھ سماجی تعلقات قائم کرنا سیکھ جاتا ہے۔‏‏

بچے‏ خود محبت کرنے اور دوسروں سے محبت پانے کے قابل ہیں۔‏“‏

 

‏”‏میری طرف دیکھیں!‏“‏

بچوں کے سلسلے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ابتدائی سالوں میں بچہ اپنی دیکھ‌بھال کرنے والے شخص یعنی عام طور پر ماں کیساتھ جذباتی وابستگی پیدا کر لیتا ہے۔‏

جب بچہ اِس جذباتی تعلق کی بِنا پر خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے تو اُن بچوں کی نسبت سماجی میل‌جول میں بہتر ثابت ہوتا ہے جنہیں والدین کی طرف سے ایسا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔‏ ایک خیال کے مطابق بچے کے تین سال کی عمر کو پہنچنے تک بچے اور ماں کے مابین ایسا تعلق قائم ہو جانا چاہئے۔‏

اگر بچے کو اِس نازک دَور میں نظرانداز کر دیا جائے جب اُسکا ذہن بیرونی اثرات سے بہت زیادہ اثرپذیر ہوتا ہے تو کیا واقع ہو سکتا ہے؟‏

مرتھا فیرل ایرکسن جس نے 20 سال تک 267 ماؤں اور انکے بچوں کے مابین تعلقات پر غور کِیا وہ یہ رائے پیش کرتی ہے:‏ ”‏اگر بچوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو اُنکا جوش‌وجذبہ آہستہ آہستہ بالکل ختم ہو جاتا ہے اور یوں بچے کی دوسروں کیساتھ تعلقات پیدا کرنے یا دُنیا میں چیزوں کی تحقیق‌وتفتیش کرنے کی خواہش مٹ جاتی ہے۔‏“‏

بچوں کو نظرانداز کرنے کے سنگین نتائج کے سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکساس چلڈرن ہوسپٹل کا ڈاکٹر بروس پیری کا کہنا ہے کہ:‏ ”‏اگر آپ مجھ سے کہیں کہ ایک 6 ماہ کے بچے کو لیکر اُسکی تمام ہڈیاں توڑ دینے یا جذباتی طور پر اُسے دو ماہ کیلئے نظرانداز کر دینے میں سے ایک کا انتخاب کروں تو میری رائے میں بچے کی ہڈیاں توڑ دینا بہتر ہے۔‏“‏ کیوں؟‏ پیری کے خیال میں ”‏ہڈیاں جڑ سکتی ہیں لیکن اگر بچہ دو ماہ تک ازحد ضروری دماغی ہیجان سے محروم رہتا ہے تو آپکو ہمیشہ کیلئے ایک منتشر دماغ کا سامنا کرنا پڑیگا۔‏“‏

سب اِس بات سے اتفاق نہیں کرینگے کہ ایسا نقصان ناقابلِ‌ تلافی ہے۔‏ تاہم سائنسی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بچے کے ذہن کیلئے جذباتی طور پر خوشگوار ماحول بہت ضروری ہے۔‏ 

ایک مشرقی کہاوت ہے:‏ ”‏رونا بچے کا کام ہے۔‏“‏

بچے کی طرف سے رابطے کا بنیادی ذریعہ رو کر اِس بات کا اظہار کرنا ہے کہ اُسے کیا چاہئے۔‏ آپ جب بھی کسی چیز کی درخواست کرتے ہیں اگر اُسے نظرانداز کر دیا جائے تو آپ کیسا محسوس کرینگے؟‏

پس آپکا بچہ جو پوری طرح سے آپ پر انحصار کرتا ہے جب وہ آپکی توجہ چاہتا ہے اور اُسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے تو وہ کیسا محسوس کریگا؟‏ پھربھی بچے کے رونے پر کسے جواب دینا چاہئے؟

‏’مَیں بچے کو لاڈ پیار سے بگاڑ تو نہیں دوں گی؟‏‘

آپ پوچھ سکتی ہیں کہ ’‏اگر مَیں بچے کی ہر چیخ پر بیتاب ہوجاؤں تو کیا مَیں اُسے بگاڑ تو نہیں دوں گی؟‏‘‏

شاید ایسا ہو۔‏

تاہم اِس سوال کی بابت مختلف نظریات پیش کئے جاتے ہیں۔‏

چونکہ ہر بچہ منفرد ہے لہٰذا والدین کو عام طور پر اِس بات کا تعیّن کرنا پڑتا ہے کہ کونسا طریقۂ‌کار زیادہ مؤثر ہے۔‏

تاہم حالیہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ جب نوزائیدہ بچہ بھوکا،‏ بےآرام یا پریشان ہوتا ہے تو اُسکا ذہنی دباؤ کا نظام ایسی صورتحال میں ہارمونز کا اخراج کرتا ہے۔‏ وہ اپنی پریشانی کا اظہار رونے سے کرتا ہے۔‏

ایک رائے کے مطابق جب ماں یا باپ کی طرف سے جوابی‌عمل دکھایا اور بچے کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں تو بالغ افراد بچے کے دماغی خلیوں کے نظام کو ترقی دیتے ہیں جو اُسکی مدد کرتا ہے کہ وہ راحت‌وآرام حاصل کرنا سیکھ سکے۔‏

اِسکے علاوہ ڈاکٹر میگن گنر کے مطابق ہمدردانہ توجہ حاصل کرنے والا بچہ دباؤ کا مقابلہ کرنے والے کارٹیسول ہارمون کم مقدار میں پیدا کرتا ہے۔‏ علاوہ‌ازیں اگر وہ پریشان ہو بھی جاتا ہے تو دباؤ کے سلسلے میں ردِعمل کو جلدی بند کر دیتا ہے۔‏

ایرکسن بیان کرتا ہے کہ ”‏درحقیقت،‏ جن بچوں کی ضروریات کو بالخصوص پہلے 6-7 مہینوں میں فوراً اور باربار پورا کِیا گیا ہو،‏ وہ اُن بچوں کی نسبت کم روتے ہیں جنکو روتا چھوڑ دیا گیا ہو۔‏“‏

یہ بھی ضروری ہے کہ آپ مختلف طریقوں سے جوابی‌عمل دکھائیں۔‏

اگر آپ ہر مرتبہ ایک ہی طریقے سے جوابی‌عمل دکھاتے ہیں،‏ جیسےکہ اُسے دودھ پلانا یا اُٹھا لینا،‏ تو وہ واقعی بگڑ سکتا ہے۔‏

بعض‌اوقات اُسکے رونے کی آواز پر اپنی آواز سے جواب دینا بھی کافی ہوتا ہے۔‏

یا بچے کے آس‌پاس چلنا پھرنا اور اُسکے پاس جاکر شفقت سے بات کرنا بھی مؤثر ہو سکتا ہے۔‏

اِسکے برعکس،‏ اپنے ہاتھ سے اُسکی پیٹھ یا پیٹ کو سہلانے سے بھی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‏